مجھے کیپشنز لکھنا بہت مشکل کام لگتا ہے اور تب تو بہت ہی مشکل جب کیپشنز لکھنا بے حد ضروری ہو جاۓ, ہاں جی بلکل سہی سنا بے حد ضروری، شاید آپکی زندگی کی کہانی میں ایک ایسا موڑ بھی آتا ہے جب آپکے دل میں کہنے کو بہت کچھ ہو، منفی جذبات، غصہ، بے اطمینانی، بے بسی جیسے جان لیوا اسباب آپکی زندگی میں پناہ لینا شروع کرنے لگتے ہیں تو اسی وقت ان اسباب کو کسی دوسرے انسان کے لیے سمجھنا اور ان اسباب ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس کا علاج اور اس کی دوا پھر ایک ایسے شخص کے پاس ہوتی ہے جو ایک اچھے دل کا مالک ہو اور شاید خود بھی انہیں بیماریوں میں مبتلا ہو، اور وہ یہ علاج بغیر کسی فیس یا انعام کی غرض سے کرتا ہےاپنی بیماری کی پرواہ کیے بغیر ، اور اس ایسے شخص کی جانب سے کیا جانے والا علاج زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے آپکے لیے؟ کیا گفتگو کر لینا سمجھ لینا، اور ان بیماریوں کا علاج کرتے رہنا جب تک وہ بیماریاں جڑ سے ختم نہیں ہو جاتیں کیا کافی نہیں؟پھر آپکو شیشے کے محل اور high class living کی ضرورت نہیں رہتی پھر آپ ایسے شخص کے ساتھ سوکھی روٹی بھی اپکا پیٹ کو بھر دیتی ہے، اور یہ رشتہ بہت سے بھروسے سے مل کر بنتا ہے، ایسا بھروسہ جو یقین کی گہری سی گہری چوٹ بھی برداشت کر لے، میری نظر میں ایسا شخص کسی نعمت سے کم نہیں، وہ شخص پھر اپکی شاموں میں ہوتا ہے، ڈوبتے سورج میں ہوتا ہے، شام کی چائے میں ہوتا ہے، رات کے good night میں ہوتا ہے، سردیوں کی دھند میں ہوتا ہے، کھڑکیوں کے پار ہوتا ہے، آنسؤں میں ہوتا ہے، خوشیوں میں ہوتا ہے، آج ہوتا ہے، کل ہوتا ہے، رات کی تاریکیوں میں ہوتا ہے، چراغوں کی لو میں ہوتا ہے، ایسا شخص مرتا نہیں زندہ رہتا ہے، کیا آپ سب مجھ پر ایک احسان کریں گے؟ اپنے پیاروں کو آج اضافی گلے لگائیں بے شک وہ پیارے پھر جس بھی شکل میں ہوں، انہیں بتائیں کہ وہ آپکے لیے کتنا ضروری ہیں کل کا کیا پتہ کل ہو نہ ہو، کل ہو نہ ہو، کل ہو نہ ہو،


